بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ابھی چند دن پہلے نیتن یاہو نے ایک نقشہ دکھایا جس میں خطے کے ممالک کو تین محوروں میں تقسیم کیا گیا تھا؛ اس کے دوست نیلے رنگ میں تھے، سنی محور سبز رنگ میں اور محورِ مقاومت کا رنگ مختلف تھا۔
اگر کوئی ایرانیوں سے پوچھے کہ "تم نے اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے اسی وجہ سے یہ جنگ شروع ہوئی؟ تو وہ اسے نیتن یاہو کا یہی 2026 والا نقشہ دکھا سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے: سعودی، جولانی اور اردوان نیتن یاہو کی خدمت کرتے رہے لیکن نیتن یاہو نے انہیں پھر بھی، نقشے میں اس کے دوستوں کے کیمپ میں، شامل نہیں کیا ہے؛ بلکہ انہیں خود سے الگ اور دشمن محاذ میں 'ہدف ممالک' کے طور پر، شمار کیا ہے۔

یہاں تک کہ آپ انہیں نیل سے فرات تک کا نقشہ بھی دکھا سکتے ہیں 'جو صہیونیت کا خواب ہے' اور کہہ سکتے ہیں: اس زمانے میں جب اسلامی انقلاب نہیں ابھی کامیاب نہیں تھا اور ایران پر مسلط پہلوی بادشاہ محمد بن سلمان کی طرح، اور اس کی جگہ، پور تن دہی سے اسرائیل کی خدمت میں مصروف تھا؛ تب بھی ایران 'نیل سے فرات تک' کے نقشے صہیونی منصبوبے کے اندر 'ہدف ملک' سمجھا جاتا ہے۔
جیسا کہ اُن ہی برسوں میں دشتِ قزوین کا علاقہ اسرائیل کے حوالے کر دیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے لئے زراعت کے اہم منصوبے بنائے اور خراسان بہائیوں کے قبضے میں تھا۔ بہائی کون تھے؟ ایران میں رہنے والے 'صیہونیت کی حیفا شاخ'۔
آج یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی خواہش ایران کے جغرافیے کی تقسیم اور ایک بڑی علاقائی طاقت کو چھوٹی چھوٹی کمزور اکائیوں میں تبدیل کرنا ہے۔
چنانچہ امریکی اور اسرائیلی رجیموں نے 8 اور 9 جنوری (2026ع) کی بغاوت سے پہلے، مغربی سرحدوں پر علیحدگی پسندوں کو منظم کیا اور ٹرمپ کے بقول انہیں اسلحہ پہنچایا اور پومپیو کے بقول 2 جنوری 2026ع کو موساد کے کارندے ایران کی سڑکوں پر مظاہرین کا انتظار کر رہے تھے اور یہاں تک کہ نیتن یاہو اب تک کئی بار [اُن دنوں] ایران کی سڑکوں پر قبضے کی بات کر چکا ہے۔
خیر، اگر کوئی پوچھے کہ انجام کیا ہوگا، تو جواب یہ ہے کہ:
- ہم عقلمندی سے جغرافیے کا دفاع کر رہے ہیں اور
- فطرت، جس کا نام ہی فطرت ہے، حقیقت کی قدرتی معمار ہے۔ مثلاً
- اگر کچھ لوگ دریا میں گھر بنا لیں؛ تو کچھ عرصے بعد دریا قدرتی طور پر طغیانی کرے گا۔ کیونکہ
- دریا کے گھر پر قبضہ کیا گیا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ
- اپنے گھر اور جغرافیے کی خاطر لڑنے والوں کے سامنے کچھ عرصے تک کھڑا ہؤا جا سکتا ہے، لیکن
- فطرت اور جغرافیے کی طاقت کے جوہر کو مٹایا نہیں جا سکتا۔
ہم جب تاریخ اور جغرافیے کو ملا دیتے ہیں تو اس کو یوں پڑھا جا سکتا ہے:
- 'ہم نہیں تھے اور جغرافیے کے باغی ایران کے خلاف تھے'؛ اور اب 'ہم ہیں اور مٹی میں ملائے گئے باغیوں کے نقشے'۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: کمیل خجستہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ